لکھنؤ،2؍اگست (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل بلند شہر کے قریب شاہراہ پر ایک خاتون اور اس کی بیٹی کے ساتھ ہوئے گینگ ریپ کے واقعہ نے اب زبردست سیاسی روپ اختیارکر لیا ہے۔سنیچر کی رات کو پیش آئے اس واقعہ کے متاثرین سے ملاقات کرنے کے لیے بی جے پی لیڈروں کا ایک گروپ غازی آباد پہنچا۔اس درمیان یوپی کے سینئر کابینہ وزیر اعظم خان نے معاملے کو اپوزیشن کی سازش قرار دے کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اعظم خان نے کہاکہ ہمیں اس بات کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کی شبیہ خراب کرنے کی مخالفین کی سازش تو نہیں ہے؟انہوں نے کہاکہ ووٹ کے لیے لوگ کسی بھی سطح تک گر سکتے ہیں، جب مظفرنگر فسادات ہو سکتا ہے، شاملی اور کیرانہ کے واقعات ہوسکتے ہیں ،تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا ۔اقتدار کے لیے سیاستدان لوگوں کا قتل کرا سکتے ہیں، فسادات بھڑکا سکتے ہیں، معصوم لوگوں کی جان لے سکتے ہیں، ایسے میں حقیقت کا پتہ لگایا جانا چاہیے ۔بی جے پی ترجمان نے اس بیان پر سخت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ میں ذرا سی بھی انسانیت ہے، تو ملزمان کا پتہ لگوائیں اور انہیں گرفتار کروائیں ۔پارٹی نے اس واقعہ کی سی بی آئی جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔بلند شہر کے واقعہ کے بعد اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ریاست میں قانون وانتظام کو سنبھالنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر اعلی کے استعفی کا مطالبہ تک کردیا ہے۔غور طلب ہے کہ متاثرہ خاتون اور اس کی بیٹی جمعہ کی رات اپنے خاندان کے ساتھ شاہ جہاں پور سے آ رہی تھیں۔بلند شہر میں داخل ہوتے ہی کسی نے ان کی کار کو لوہے کی راڈ سے پیٹنا شروع کر دیا۔جیسے ہی ڈرائیور نے گاڑی روکی، ویسے ہی بندوق کی نوک پر بدمعاشوں انہیں یرغمال بنا لیا ۔بلند شہر کے سینئر افسر نے بتایا کہ خاندان کے ساتھ لوٹ مار کی گئی، مردوں کو باندھ دیا گیا۔بدمعاش 35سالہ خاتون اور اس کی بیٹی کو دور تک گھسیٹ کر لے گئے اور ان کے ساتھ تین گھنٹے تک اجتماعی آبروریزی کی۔کافی دیر بعد تقریبا 5.30بجے انہیں پولیس نے ڈھونڈا۔